Baaghi TV

امریکا: تین بچوں کے قتل کے مقدمے میں جیوری بے نتیجہ، جج نے ٹرائل ختم کردیا

امریکی ریاست میساچوسٹس میں تین کمسن بچوں کے قتل کے مقدمے میں جج نے جیوری کے متفقہ فیصلے تک نہ پہنچنے پر مقدمے کو غیر مؤثر ٹرائل قرار دے دیا۔ فیصلہ جیوری کی جانب سے سات روز تک غور و خوض کے بعد سامنے آیا، جس کے باعث 36 سالہ سابق لیبر اینڈ ڈلیوری نرس لنڈسے کلینسی کے خلاف مقدمہ تاحال حل طلب ہے۔

غیر مؤثر ٹرائل قرار دیے جانے کے بعد استغاثہ کو قانونی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لنڈسے کلینسی کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلائے، الزامات واپس لے یا دفاع کے وکلا کے ساتھ ممکنہ پلی بارگین پر غور کرے۔مقدمے کے دوران استغاثہ اور دفاع کے درمیان بنیادی اختلاف یہ تھا کہ آیا کلینسی اپنے تین بچوں کو قتل کرتے وقت اپنے افعال کی مجرمانہ ذمہ داری سمجھنے اور انہیں کنٹرول کرنے کی ذہنی صلاحیت رکھتی تھیں یا نہیں۔استغاثہ کے مطابق کلینسی نے 24 جنوری 2023 کو اپنے 5 سالہ بیٹی کورا، 3 سالہ بیٹے ڈاسن اور 8 ماہ کے بیٹے کیلان کو ایکسرسائز بینڈز کے ذریعے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ کلینسی نے اپنے شوہر کو گھر سے باہر بھیجا تاکہ وہ بچے کی دوا اور خاندان کے لیے کھانا لے آئے، جس کے بعد اس نے بچوں کو قتل کیا۔

دوسری جانب کلینسی کے وکیل کیون ریڈنگٹن نے بچوں کے قتل سے انکار نہیں کیا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ان کی موکلہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس نامی ایک نایاب ذہنی بیماری کا شکار تھیں، جس کے باعث انہیں اپنے اعمال پر قابو نہیں تھا اور انہیں قتل کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

مقدمے کے دوران 21 روز تک گواہوں کے بیانات اور ماہرین کی شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کیلان کی پیدائش کے بعد کلینسی کی ذہنی صحت تیزی سے متاثر ہوئی۔ وہ شدید بے چینی، نیند کی کمی اور ذہنی الجھن کا شکار تھیں جبکہ کام پر واپسی کے خیال سے بھی شدید دباؤ میں تھیں۔کلینسی کے اہل خانہ نے بھی گواہی دی کہ وہ اپنی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کے بارے میں فکرمند تھیں اور مدد طلب کر رہی تھیں۔ جنوری کے آغاز میں انہوں نے مزید علاج کے لیے ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخلہ بھی لیا، تاہم انہیں مختصر عرصے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ بچوں کے قتل کا واقعہ ہسپتال سے رہائی کے صرف 19 روز بعد پیش آیا۔قتل کے فوراً بعد کلینسی نے گھر کی دوسری منزل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ کمر سے نیچے تک مفلوج ہوگئیں۔

استغاثہ نے تسلیم کیا کہ کلینسی شدید ذہنی بیماری کا شکار تھیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اقدامات کی نوعیت سمجھنے اور انہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ پراسیکیوٹرز نے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ کلینسی کو بچوں کو قتل کرنے کے احکامات دینے والی ایک مردانہ آواز سنائی دیتی تھی، کیونکہ قتل سے قبل انہوں نے اپنے ذہنی صحت کے ماہرین کو ایسی آوازیں سنائی دینے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔مقدمے کے آخری مرحلے میں طبی ماہرین کے درمیان بھی شدید اختلاف سامنے آیا۔ استغاثہ کے ماہر نفسیات کرک ہیل برن نے کہا کہ انہیں کلینسی کے آوازیں سننے کے دعوے پر یقین نہیں اور ان کے خیال میں قتل کے وقت وہ شدید سائیکوسس کا شکار نہیں تھیں۔

دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلپ ریسنک نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا کہ کلینسی واضح طور پر سائیکوسس میں مبتلا تھیں اور اپنے اقدامات پر قابو نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق وہ ایسی کیفیت میں تھیں جیسے ’’کٹھ پتلی‘‘ ہوں اور کوئی دوسرا ان کی ڈوریاں ہلا رہا ہو۔

مقدمے کے آغاز میں بچوں کے والد پیٹرک کلینسی نے بھی گواہی دی اور بتایا کہ وہ گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنے بچوں کو مردہ حالت میں پایا۔ استغاثہ نے عدالت میں ان کی 911 ایمرجنسی کال بھی چلائی، جس میں انہیں بچوں کی لاشیں دریافت کرنے کے بعد شدید صدمے کی حالت میں سنا جا سکتا تھا۔پیٹرک کلینسی نے بعد میں مختلف انٹرویوز میں کہا کہ انہوں نے اپنی سابق اہلیہ کو معاف کردیا ہے اور ان کا یقین ہے کہ بچوں کے قتل کے پیچھے بنیادی وجہ ان کی ذہنی بیماری تھی۔اب استغاثہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا لنڈسے کلینسی کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلایا جائے، الزامات ختم کیے جائیں یا دفاع کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے پر بات کی جائے۔

More posts