صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
برینٹ کروڈ، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔
تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا،جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔
امریکا کے اس اعلان کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا، امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے
