Baaghi TV

طالبان حکومت پانچ سالوں میں جامع نظام حکومت لانے میں بری طرح ناکام

اسلام آباد: طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں افغانستان کی موجودہ سیاسی، سکیورٹی، معاشی اور انسانی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے تعاون سے کیا گیا۔ کانفرنس میں پالیسی حلقوں، تھنک ٹینکس، افغانستان امور کے ماہرین، ملکی و غیر ملکی مبصرین، پالیسی سازوں، سفارتی اہلکاروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ طالبان حکومت پانچ سال گزرنے کے باوجود افغانستان میں جامع نظام حکومت قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ جامع حکومت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی سے متعلق طالبان کے دعوے بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔

اعلامیے کے مطابق افغانستان میں شوریٰ کا نظام کمزور ہے جبکہ افغان عوام طالبان حکومت کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اعلامیے میں طالبان حکومت کے نظریاتی رجحانات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ شریعت کے دعوے دار طالبان رجیم تکفیری نظریات سے متاثر دکھائی دیتی ہے اور خوارج کے لیے اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔کانفرنس کے شرکا کے مطابق کابل اور قندھار کے گروہوں کے درمیان شدید نظریاتی اختلافات کے باعث باہمی چپقلش میں بھی تیزی آئی ہے۔ خواتین کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا کہ خواتین کی تعلیم اور روزگار تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ طالبان حکومت علاقائی اور عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے میں بھی ناکام رہی ہے، جبکہ معاشی میدان میں بھی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ افغان عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہ بدستور موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی سکیورٹی خطرات سے محفوظ نہیں۔کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان حکومت کے مبینہ مظالم کے بعد افغانستان میں مسلح مزاحمتی تحریکوں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق مزاحمتی گروہوں نے رواں سال اپنی کارروائیوں کا دائرہ شمالی علاقوں سے بڑھا کر ملک کے دیگر اہم حصوں تک پھیلا دیا ہے، جبکہ کابل، قندھار اور قندوز سمیت مختلف علاقوں میں طالبان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

کانفرنس کے شرکا نے مجموعی طور پر اتفاق کیا کہ طالبان حکومت گزشتہ پانچ برس کے دوران سکیورٹی، گورننس، انسانی حقوق، معیشت اور سفارت کاری سمیت متعدد اہم محاذوں پر مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

More posts