Baaghi TV

چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد پاکستان کے معاشرے کا ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر سال ہزاروں معصوم بچیاں جنسی زیادتی، اغوا اور قتل جیسے مہلک جرائم کا شکار ہو رہی ہیں۔کبھی ان بچیوں کو گھروں سے اغوا کیا جاتا ہے ، کبھی گلی محلوں سے ، کبھی تنہا دیکھ کر۔ کبھی چیزوں کا لالچ دے کر۔ان سب نفسیاتی حربوں کی بدولت معصوم بچیوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ان معصوم ننھی کلیوں کو ایسے لوگوں کے بالکل پہچان نہیں ہوتی۔ نہ تو وہ بیچاری نفسیات کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔ نہ لڑائی جھگڑا اور نہ شور و غل۔ پچھلے 10 سالوں سے یہ عجیب سی کیفیت ہے۔سہیل نامی این جی او کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پاکستان بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 3,630 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 53 فیصد (1,924) متاثرین لڑکیاں تھیں۔ 2024 میں یہ تعداد 3,364 تھی جس میں 1,791 لڑکیاں شامل تھیں۔

یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں، جب کہ اصل تعداد کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خاموش وبا ہے جو ہمارے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس کے کئی وجوہات ہیں جو پورے معاشرے کے لیے چیلنج رکھتی ہیں۔سوچ بچار پر مجبور کرتی ہیں۔چند بڑی وجوہات میں غربت بچوں کو جنسی استحصال کے لیے زیادہ خطرے میں ڈالتی ہے۔

غریب خاندان اکثر اپنی بچیوں کو کم عمری میں نوکری یا شادی پر مجبور کر دیتے ہیں، جہاں وہ استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔جنسی بھیڑیے ایسے مواقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس حقیقت کی دوسری بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔اکثر
پاکستانی معاشرے میں جنسی تعلیم کو ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کو "اچھا لمس” اور "برا لمس” کے بارے میں آگاہی نہیں دی جاتی۔ طلاق جیسی صورت حال میں بچوں کے جنسی استحصال کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں جنسی زیادتی کے 2,954 کیسز میں صرف 28 افراد کو سزا ہوئی۔اس سزا سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کتنی سزا ملتی ہے؟ یہ انتہائی شرم ناک اعداد و شمار ہیں جو سچ کا چہرہ دکھا کر آگاہی دے رہے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں جنسی زیادتی کے 366 کیسز میں کوئی سزا نہیں ہوئی۔ مجموعی طور پر کنویکشن ریٹ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔یہ ایک تلخ ، ترش اور ناقابل بیان کہانی ہے۔
تخمینہ کے مطابق 10 سے 15 فیصد کیسز مذہبی مدارس میں رونما ہوتے ہیں۔یہ بھی ہماری زندگی پر سوالیہ نشان ہے جو ہمیں خطرات ، صورت حال اور مستقبل میں لائحہ عمل کی تلقین کرتا ہے تاکہ ایسے مجرموں کو سنگین سے سنگین سزا دی جائے۔اگر ایسے حالات و واقعات پر غور و خوص کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر واقعات گھروں کے اندر ، اور رشتے داروں کے ہاتھوں یا پڑوسیوں کی بدولت خطا ہوتے ہیں۔

خاندان معاشرتی بدنامی کے خوف سے کیس رپورٹ نہیں کرتے۔جب معاشرہ ایسی صورت حال سی دو چار ہو جائے تو حکومت وقت کو ہنگامی بنیادوں پر کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔مثلا؛
بچوں کے لیے مخصوص عدالتوں کا قیام لایا جائے۔
زیادتی کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کی جائے
کنویکشن ریٹ بڑھانے کے لیے سخت سزائیں دی جائیں۔
اسکولوں میں "اچھا لمس، برا لمس” کے بارے میں نصاب شامل کیا جائے۔
جنسی تعلیم کو "سیفٹی ایجوکیشن” کے نام سے متعارف کرایا جائے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور بچیوں کے تحفظ کا معاملہ بھی۔
والدین کو بچوں سے کھل کر بات کرنے کی ترغیب دی جائے۔
ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا قیام کیا جائے۔
24/7 ہیلپ لائن کا اجراء ہو تاکہ ایسے لوگوں کو مہلت ہی نہ ملے۔انہیں پکڑ کر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
رپورٹنگ نہ کرنے والے اداروں پر بھاری جرمانے کیے جائیں
مذہبی رہنماؤں کو بچوں کے تحفظ کے لیے متحرک کیا جائے۔
اپنے گھر اور محلے میں بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ اپنے آس پاس کہیں بھی زیادتی کا واقعہ دیکھیں تو فوری طور پر پولیس اسٹیشن اطلاع دیں۔
چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ایک ایسا ناسور ہے جسے جڑ سے ختم کرنا ہمارا فرض ہے۔ بڑھتے ہوئے اعداد و شمار، کم سزا کی شرح اور معاشرتی خاموشی اس مسئلے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ حکومت، معاشرہ اور ہر فرد کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکی
یاد رکھیں: خاموشی زیادتی کرنے والوں کی ہمت بڑھاتی ہے۔ اپنی آواز اٹھائیں، اپنے بچوں کی حفاظت کریں اور ایک محفوظ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

More posts