بنگلہ دیش کی 13ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی کے بعد طارق رحمان بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بن گئے ہیں۔
طارق رحمان سے حلف صدر محمد شہاب الدین نے لیا، اس سے قبل بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے نومنتخب اراکین نے بھی حلف اٹھا لیا تھا اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان کی قیادت میں حکومت سازی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری آج جاتیہ سنگسد کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہونے والی ہے۔
کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق نئی وفاقی کابینہ 50 اراکین پر مشتمل ہوگی، جن میں وزیرِ اعظم کے علاوہ 25 وفاقی وزراء اور 24 وزرائے مملکت شامل ہوں گے۔
پارٹی کے سینیئر رہنماؤں میں مرزا فخر الاسلام عالمگیر، امیر خسرو محمود چوہدری، صلاح الدین احمد، اقبال حسن محمود (ٹوکو)، میجر (ر) حفیظ الدین احمد، اے زیڈ ایم زاہد حسین، عبدالاوال منٹو، قاضی شاہ مفظل حسین کیکوباد، میزان الرحمٰن مینو، نتائی رائے چوہدری، خندکر عبدالمقتدر، عارف الحق چوہدری، ظہیر الدین سواپن، محمد امین الرشید، خلیل الرحمٰن، افروزہ خانم (ریتا)، شاہد الدین چوہدری(اینی)، اسداللہ حبیب دلو، محمد اسد الزمان، ذکریا طاہر، دیپن دیوان، اے این ایم احسن الحق میلن، سردار سخاوت حسین (بکول)، فقیر محبوب انام (سواپن) اور شیخ ربیع الاسلام کو مکمل وفاقی وزراء کے طور پر شامل کیے جانے کی توقع ہے جبکہ حکام کے مطابق محمد امین الرشید اور خلیل الرحمٰن ٹیکنوکریٹ کوٹہ کے تحت کابینہ میں شامل ہوں گے۔
وزرائے مملکت کے طور پر ایم رشید الزمان ملت، انندیہ اسلام امیت، محمد شریفل عالم، شما عبید اسلام، سلطان صلاح الدین ٹوکو، قیصر کمال، فرہاد حسین آزاد، امین الحق، میر محمد ہلال الدین، حبیب الرشید، محمد راجب احسن، محمد عبدالباری، میر شاہ عالم، جنید ساقی، اشراق حسین، فرزانہ شرمین، شیخ فرید الاسلام، نورالحق، یاسر خان چوہدری، اے کے اقبال حسین، ایم اے محیث، احمد سہیل منظور، بوبی حجاز اور علی نواز محمود خیام کے نام سامنے آئے ہیں ، پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے رکن دیپن دیوان اور عارف الحق چوہدری نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سابق فٹبالر امین الحق، جو ڈھاکا 16 کی نشست پر انتخاب ہار گئے تھے، ٹیکنوکریٹ وزیرِ مملکت کے طور پر حلف اٹھائیں گے، جو بی این پی کی جانب سے غیر منتخب ماہرین کو بھی شامل کرنے کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ نوجوان سیاستدان انندیہ اسلام امیت کو بھی وزیرِ مملکت کے طور پر مدعو کیا گیا ہے تاہم ان کا قلمدان تاحال سامنے نہیں آیا۔
