Baaghi TV

تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

iran

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا امریکا کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا، خدائی مدد اور فضل سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا۔

ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج جائز عمل ہے لیکن احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہے، احتجاج کرنے والوں سے بات کی جاتی ہے ، حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے،ایرانی مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہیں،صدر اوراعلیٰ حکام پابندیوں سے متاثرہ معیشت کے مسائل حل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں،احتجاج عوام کا حق ہے لیکن ہنگامہ آرائی ناقابل قبول ہے،ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر سے نمٹا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا،سوشل ٹروتھ اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران نے پُرامن مظاہرین پرتشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا، ہم مظاہرین کو بچانے جانےکے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

جس کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہےامریکی صدر ٹرمپ کےبیان سےاب پسِ پردہ کہانی واضح ہو گئی،اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کےمؤقف کیساتھ اس واقعےکاپس منظرواضح ہوگیا، ہم احتجاج کرنیوالےتاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں،امریکی مداخلت پورےخطےمیں انتشاراورتباہی کے مترادف ہو گی، ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مہم جوئی شروع کی ہے،امریکی صدر اپنےفوجیوں کا خیال رکھیں،اس سےقبل امریکی محکمہ خارجہ کابھی ایران میں جاری مظاہروں پر ردعمل سامنے آیا تھا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ: ابتدائی اسکواڈ فائنل، پاکستان نے نام آئی سی سی کو بھجوادئیے

دوسری جانب ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔

دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھےمختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ، سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لور ستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

More posts