ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اب تک امریکا کے ساتھ ہونے والے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کی ہے، اب امریکا پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد صرف باہمی بنیادوں پر ہی ممکن ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خزانہ نے مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 9 کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عباس عراقچی کے دورۂ عمان کو مشاورتی عمل کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران فریقین آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مناسب طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔ترجمان نے امریکی صدر کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات کے نئے مرحلے کے لیے کوئی درخواست نہیں کی اور اس حوالے سے سامنے آنے والے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
