لاہور کے علاقے نصیر آباد میں مبینہ تشدد کے نتیجے میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ جاں بحق ہوگئی، پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس کے مطابق 12 سالہ کنیز فاطمہ، جو فیصل آباد کی رہائشی تھی، گزشتہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ واقعے کے بعد لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب مقتولہ کے والد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو گھر کے مالکان نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔ ان کے بیان کی روشنی میں پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اور فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
