تل ابیب میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ غزہ،ایران اور لبنان میں جاری تمام جنگیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بمباری اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ امن اور سفارتکاری سے حقیقی سلامتی مل سکتی ہے۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے حکومت کے خلاف منفرد انداز اپنایا۔ بعض مظاہرین نے اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی وزیر اتمار بین گویر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے ماسک پہن رکھے تھے۔ کچھ افراد نارنجی قیدی لباس میں ملبوس تھے جبکہ دیگر نے "موت کے فرشتے” جیسا روپ دھار رکھا تھا۔ مظاہرین نے علامتی الاؤ کے گرد رقص کیا اور پیغام دیا کہ موجودہ قیادت موت، خوف اور خونریزی کی سیاست کر رہی ہے، اور ایک دن انہیں اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔
ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مئی 2000 میں لبنان سے آخری فوجی نکالا تھا، لیکن اب دوبارہ وہاں جانا ایک المناک غلطی ہے۔ ان کے بقول، "یہ پاگل پن ہے، میں سمجھ نہیں سکتی کہ ہم پھر اسی راستے پر کیوں جا رہے ہیں۔”احتجاج کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قانونی مشکلات بھی زیر بحث رہیں۔ مظاہرین نے تنقید کی کہ وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق اتوار کو ہونے والی عدالتی سماعت میں گواہی مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے، جو ان کے نزدیک عوامی اعتماد سے فرار کی کوشش ہے۔
گزشتہ ہفتے پولیس نے اسی نوعیت کے احتجاج کو منتشر کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بڑے اجتماعات سکیورٹی ہدایات کے خلاف ہیں۔ اس بار بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور حکام نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایک ہزار سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں۔ تاہم مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد بظاہر اس حد سے کہیں زیادہ دکھائی دی۔احتجاج کے منتظم اور تحریک "اسٹینڈنگ ٹوگیدر” کے رہنما نے کہا کہ اگر پولیس طاقت استعمال کرے گی تو اس سے تحریک کو مزید توجہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں جب احتجاجی رہنما ایلون لی گرین سے بیروت کی تباہی کی تصاویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے افسردگی سے جواب دیا "میرا دل ٹوٹ گیا۔”
یہ الفاظ نہ صرف احتجاجی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اسرائیلی معاشرے کے اس طبقے کی بھی نمائندگی کرتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ مسلسل جنگ نے خطے کو مزید غیر محفوظ اور انسانیت کو مزید زخمی کر دیا ہے۔
