تل ابیب: ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی شہر تل ابیب میں کم از کم 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سرائیلی اخبار ہرٹز نے شہر کی بلدیہ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کے بعد 200 سے زائد رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر حفاظتی اقدامات کے تحت تل ابیب کے تین مختلف ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا ہے متاثرہ عمارتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شہریوں کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باعث سیکیورٹی الرٹ برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد سفارت کاری کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہےا امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے، ایران پر حملے کے بعد سفارت کاری کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہے ظاہر ہے اب یہ ایک دن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے کیونکہ انہیں بری طرح مار پڑ رہی ہے، ایران کا ردعمل ہماری توقع سے کم رہا ہے، ہم نے سوچا تھا کہ یہ اس سے دوگنا ہوگا۔
شہادت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے خصوصی پیغام جاری
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے دارالحکومت تہران سمیت متعدد شہروں پر میزائل حملے کیے تھے جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے مشیر علی شامخانی، وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ سمیت 200 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہو گئے۔
ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے گئے، جن خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور سعودی عرب شامل ہیں۔
