مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ "اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر فائرنگ اور حملے بند کر دینے چاہئیں”۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملے کر چکے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے متعدد میزائل حملے کیے گئے جنہیں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنا دیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف دفاعی اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں جوابی کارروائیاں کی گئیں۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام نے ایک ڈرون کو مار گرایا جبکہ دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ اس کے علاوہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ سے تمام پروازیں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں۔اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ درجنوں جنگی طیاروں نے ایران بھر میں فضائی دفاعی تنصیبات اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ "تمام محاذوں پر وسیع پیمانے پر کارروائیوں” کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل کی کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی امریکہ کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی شہر ماہشہر میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا گیا، جس سے تنصیب کو جزوی نقصان پہنچا۔ ادھر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں حیفہ کے قریب اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی جائے گی۔ حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
