ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ہے۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا میرا آخری رابطہ مسٹر وٹکوف سے اُس وقت ہوا جب ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا،اس کے برعکس تمام دعوے گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں وٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال کیا گیا ہےرپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔
سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی
دوسری جانب ”ڈراپ سائٹ نیوز“ نامی پلیٹ فارم نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی کو پیغامات بھیجے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق عراقچی ان پیغامات کو نظر انداز کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد افراد شہید ہوئے ایران نے بھی اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کراچی: دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں گودام میں آتشزدگی،2 فائر فائٹر بے ہوش
