امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔
اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔


ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔
ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
