پنجاب حکومت نے آئندہ برس بسنت منانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم لاہور میں روایتی تہوار جنوری کے بجائے فروری میں منعقد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ نے آئندہ سال بسنت کے انعقاد کے حوالے سے ابتدائی لائحہ عمل تیار کرلیا ہے۔ بسنت کی حتمی تاریخ کا اعلان صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری میں رمضان المبارک کے آغاز کو مدنظر رکھتے ہوئے بسنت کو جنوری کے آخری دنوں یا فروری کے آغاز کے قریب منعقد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومت کی منظوری سے ہوگا۔
حکام کے مطابق گزشتہ سال بسنت کے دوران پیش آنے والے معاملات اور انتظامی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سال کے لیے جامع تیاری کی جائے گی۔ پتنگ بازی سے متعلق حفاظتی اقدامات، نگرانی اور دیگر انتظامی معاملات کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بسنت کے لیے ڈور، گڈی اور پتنگ سازی کی اجازت دینے کے معاملات پر بھی کام جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے پتنگ بازی سے متعلق قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے تاکہ تہوار کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
بسنت لاہور کی ثقافتی شناخت سے جڑا ایک قدیم تہوار ہے، تاہم ماضی میں پتنگ بازی کے دوران خطرناک ڈور کے باعث شہریوں کے زخمی ہونے اور ہلاکتوں کے واقعات کے بعد اس پر مختلف ادوار میں پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بسنت کے انعقاد میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد، خطرناک ڈور کی روک تھام اور پتنگ بازی کے لیے مخصوص قواعد کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
حتمی تاریخ اور بسنت کے انعقاد کے حوالے سے مکمل ضابطہ صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔
پنجاب میں آئندہ سال بسنت فروری میں منانے کا فیصلہ
