Baaghi TV

گوجرخان، الٹی میٹم سے پہلے ہی 300 سے زائد کھوکھے رضاکارانہ طور پر مسمار

ترقی کی راہ میں غریب کی بڑی قربانی مزاحمت کے بجائے خود ہی روزگار اجاڑ دیا، انتظامیہ اور NHA کی مشینری دیکھتی رہ گئی
ہوشربا مہنگائی میں سینکڑوں خاندان بے روزگار عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے متاثرہ دکانداروں کے لیے متبادل جگہ کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جی ٹی روڈ پر انڈر پاسز کی تعمیر کے سلسلے میں ایک ایسی بے مثال صورتحال دیکھنے میں آئی جس نے روایت توڑ دی۔ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی کھوکھا بازار کے تاجروں نے قانون کی پاسداری اور شہر کی ترقی کے لیے اپنے ہاتھوں سے اپنے روزگار کو مسمار کر کے سب کو حیران کر دیا۔

جبکہ دوسری جانب عوامی سماجی حلقوں نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپریشن میں بلاتفریق کارروائی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اسے برقرار رہنا چاہیے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کا کھوکھا تو گرا دیا جائے لیکن بااثر پلازہ مالکان کو رعایت دے دی جائے۔عوام پرامید ہیں کہ جن بڑی عمارتوں اور پلازوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، ان کے خلاف بھی اسی آہنی ہاتھ سے کارروائی ہوگی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

تفصیلات کے مطابق، انڈر پاس پروجیکٹ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وکلاء چیمبرز، خدمت مرکز، بلدیہ آفس، ایس ڈی پی او آفس، تھانہ اور چرچ کی بیرونی دیواروں سمیت متعدد سرکاری و نجی املاک کو پہلے ہی مسمار کیا جا چکا تھا۔ تاہم، کھوکھا بازار کے تاجروں کو 23 اپریل تک کی مہلت دی گئی تھی۔ گزشتہ رات گئے تک دکانداروں نے کسی بھی بدمزگی یا مزاحمت سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت 300 سے زائد کھوکھے خالی کر کے مسمار کر دیے۔ 24 اپریل جب مقامی و ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ہمراہ موقع پر پہنچیں تو 99 فیصد جگہ پہلے ہی صاف ہو چکی تھی۔ عموماً ایسے آپریشنز میں تصادم اور گرفتاریوں کا خدشہ رہتا ہے، لیکن گوجرخان کے متوسط اور محنت کش طبقے نے پُرامن طریقے سے جگہ خالی کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے جہاں اس اقدام کو سراہا، وہیں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے پر شدید تشویش اور دکھ کا اظہار بھی کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ہوشربا مہنگائی میں ان دیہاڑی دار طبقوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان متاثرین کو ترجیحی بنیادوں پر متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

More posts