اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی اداروں کو جنگ کے دوران جنسی تشدد کے الزامات کے تحت بلیک لسٹ میں شامل کرلیا، جس کے بعد اسرائیل نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کو “سیاسی اور حقائق سے عاری” قرار دیا ہے۔
اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا یہ اقدام “سیاسی فیصلہ” ہے جس کا حقیقت اور زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کو ایسے شواہد فراہم کیے تھے جو ان رپورٹس کی تردید کرتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جیل سروس سمیت کئی اسرائیلی اداروں کو 2026 کی اس بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر اداروں کو نگرانی کے فریم ورک میں رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ان کے خلاف مزید کارروائی کی جاسکے۔
اقوامِ متحدہ کی اس فہرست میں وہ ممالک، مسلح گروہ اور تنظیمیں شامل کی جاتی ہیں جن پر جنگی یا تنازعاتی علاقوں میں جنسی تشدد کے الزامات ہوں۔
اسرائیل کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اس کے سفارتی وفد نے اقوامِ متحدہ کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں اور مبینہ الزامات سے متعلق دستاویزات، ڈیٹا اور تفصیلی جوابات فراہم کیے۔ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کو ملک اور حملوں سے متاثرہ مقامات کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ “جھوٹے دعوؤں” کا جائزہ لیا جاسکے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی اداروں کو فہرست میں شامل کردیا گیا۔
اس فیصلے کے ردِعمل میں اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کے ساتھ تعلقات منجمد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک انتونیو گوتریس اقوامِ متحدہ کے سربراہ رہیں گے، سیکریٹری جنرل کے دفتر کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا جائے گا۔ گوتریس کی مدتِ ملازمت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہورہی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ اپنی 80 سالہ تاریخ کے شدید ترین مالی بحران کا سامنا کررہی ہے۔ ادارے کے مطابق رکن ممالک کی جانب سے 1.56 ارب ڈالر کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے۔
یہ پیش رفت امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون کے بعد سامنے آئی، جس میں اسرائیلی فوجیوں، آبادکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر فلسطینی مردوں، خواتین اور بچوں کے خلاف مبینہ جنسی تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔مضمون میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگرچہ اسرائیلی قیادت کی جانب سے ریپ کے احکامات کے شواہد موجود نہیں، تاہم سیکیورٹی نظام میں ایسی فضا پیدا ہوگئی ہے جہاں جنسی تشدد “معمول کا طریقۂ کار” بنتا جارہا ہے۔
