امریکا نے ایران کے خلاف اسٹیلتھ میزائل استعمال کرنے کی تیاری کر لی ہے-
امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں اور امریکی فوج نے اس کے بعد کے مرحلے کے لیے دنیا کے مہلک ترین ’جاسم ای آر‘ (JASSM-ER) اسٹیلتھ کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان میزائلوں کو بحر الکاہل کے امریکی اڈوں سے نکال کر سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مراکز اور برطانیہ کی فضائی بیسز پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ایران کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے یہ میزائل اپنی خاص ’اسٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دشمن کے ریڈار میں آئے بغیر 600 میل سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے داغنے والا جہاز دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر اپنا کام مکمل کر سکتا ہے ایک جاسم میزائل کی مالیت تقریباً 15 لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ملین ڈالر) ہے، جو اس ہتھیار کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہےسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکا جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی ایران پر ایسے 786 میزائل داغ چکا ہے۔
بھارتی جریدے کاحالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ ان پر آفت ٹوٹ پڑے گی اس الٹی میٹم کے ساتھ ہی اسرائیل نے بھی اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملے کے لیے تیار ہے اور صرف امریکا کے گرین سگنل کا انتظار کر رہا ہے،یہ حملے اگلے ایک ہفتے کے اندر متوقع ہیں جن کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔
کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟سابق سربراہ آئی اے ای اے کا عالمی برادری سے سوال
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کا رخ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک بہت بڑا وار کرنے کی تیاری میں ہے۔
