Baaghi TV

امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

usa

روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں۔

ایک انٹرویو میں اوریشکن نے کہا کہ اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہو گا جب امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں ، بات اتنی ہی سادہ ہے، اوریشکن نے صدر ولادیمر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ارب ڈالر روس کے ہیں اور ہم خود اس کے استعمال کے لیے ہدایات دیں گے۔

واضح رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے،یہ معاملہ امریکی وفد کے ساتھ 22 جنوری کو کریملن میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔

صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ رقم غزہ پٹی کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کے حل کیلئے استعمال کی جائے گی، امن بورڈ کے فنڈز امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے تھے، صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے، روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیئے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

More posts