واشنگٹن: امریکا نے ایران کے لیے ایک جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر عائد تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے سے متعلق بعض پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضا کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جاری کیے گئے جنرل لائسنس کے تحت ایران کو خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گی، جس کے دوران ایران عالمی منڈی میں تیل فروخت کر سکے گا۔
لائسنس کے مطابق ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی عارضی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس پالیسی میں اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکا گزشتہ کئی برسوں سے ایرانی تیل کی فروخت اور برآمدات پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا۔
چند روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مجوزہ امریکا ایران معاہدے کے تحت واشنگٹن مخصوص مدت کے لیے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کرنے کی اجازت ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
امریکا نے ایرانی تیل پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں
