Baaghi TV

صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

iran

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں، تاہم حملہ روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔

’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں جنرل اوہمر ٹشلر نے بتایا کہ 8 جون کی دوپہر پوری اسرائیلی فضائیہ ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے تیار تھی اس آپریشن کے دوران ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اسکواڈرنز میں بریفنگ کے دوران آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور حملے بھی کیے تھے، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگی طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے 9 نظاموں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم 3 فیکٹریوں پر حملے کیے گئے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات کو میزائلوں کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو اسے اس محاذ پر تنہا رہنا پڑ سکتا ہے گزشتہ ہفتے جاری کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے حق میں تھے، جبکہ ٹرمپ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑ ے آپریشن کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا اور طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا-

More posts