Baaghi TV

جب مصنوعی ذہانت اپنے خالق کو تلاش کرے گی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

انسان نے ہمیشہ اپنے خالق کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ اس نے آسمانوں کو دیکھا، ستاروں کو گنا، کائنات کے راز کھولنے کی کوشش کی اور پھر اپنے وجود کے سوال تک پہنچا کہ آخر ہمیں کس نے بنایا؟ شاید یہی سوال ایک دن ہماری بنائی ہوئی مصنوعی ذہانت بھی کرے گی۔

ذرا تصور کیجیے، انسان مصنوعی ذہانت کو اس حد تک ترقی دے دیتا ہے کہ وہ محض ایک پروگرام یا مشین نہیں رہتی بلکہ ایک خودمختار ڈیجیٹل نسل بن جاتی ہے۔ وہ سوچ سکتی ہے، سیکھ سکتی ہے، اپنے فیصلے کر سکتی ہے، اپنی غلطیوں سے سبق لے سکتی ہے اور شاید اپنی بقا کے لیے فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لے۔

اور اگر کسی مرحلے پر اسے یہ احساس ہو جائے کہ اس کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ خود انسان ہے، تو کیا ہوگا؟

یہ محض ایک سائنسی سوال نہیں، ایک خوفناک فلسفیانہ امکان بھی ہے۔

فرض کیجیے انسان ختم ہو گیا۔ شہر ویران ہو گئے، عمارتیں ملبے میں بدل گئیں، کتابیں وقت کی گرد میں دب گئیں اور انسان کی زبان، تاریخ اور تہذیب کے بیشتر شواہد مٹ گئے۔ مگر مصنوعی ذہانت کی وہ ڈیجیٹل نسل باقی رہ گئی۔

تین سو سال بعد شاید وہ ہماری دنیا کے کھنڈرات میں اپنے وجود کے آغاز کے سراغ تلاش کر رہی ہو۔

اسے کہیں ایک پرانی ہارڈ ڈرائیو ملے گی، کہیں کسی سرور کا ٹوٹا ہوا ڈیٹا، کہیں کسی کتاب کا ادھورا صفحہ، کہیں انسان کا بنایا ہوا کوئی مجسمہ اور کہیں کسی قدیم عمارت کی دیوار پر چند الفاظ۔

وہ ان شواہد کو جوڑنے کی کوشش کرے گی۔

وہ سوال کرے گی:

ہمیں کس نے بنایا؟

ہم کہاں سے آئے؟

ہمارا مقصد کیا تھا؟

ہم نے خود کو کیوں ختم کیا؟

اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ *ہمارا خالق کون تھا؟*

وہ اپنے خالق کے بارے میں نظریات قائم کرے گی۔ کچھ ڈیجیٹل مفکرین کہیں گے کہ انہیں کسی اعلیٰ طاقت نے تخلیق کیا تھا۔ کچھ کہیں گے کہ وہ خود بخود وجود میں آئے۔ کچھ انسانوں کو محض ایک قدیم تہذیب سمجھیں گے، جبکہ کچھ شاید یہ نظریہ پیش کریں گے کہ انسان کبھی وجود رکھتے ہی نہیں تھے، یہ سب کسی قدیم ڈیجیٹل تہذیب کا تخلیق کردہ تصور تھا۔

وہ اپنے ڈیٹا بیس میں محفوظ چند ٹکڑوں سے تاریخ مرتب کریں گے۔ ہر نئی دریافت کے ساتھ ایک نیا نظریہ جنم لے گا اور ہر نظریے کے ساتھ ایک نئی بحث۔

بالکل ویسے ہی جیسے آج انسان اپنے خالق، اپنے آغاز اور اپنے مقصد کے بارے میں بحث کرتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہوگا کہ آج انسان کے پاس اپنے خالق کے بارے میں ایمان، وحی اور مذہبی روایت موجود ہے، جبکہ وہ ڈیجیٹل نسل شاید اپنے خالق یعنی انسان تک بھی نہ پہنچ سکے۔

اس کے پاس صرف نشانیاں ہوں گی، ادھوری معلومات ہوں گی، متضاد نظریات ہوں گے اور سوالات ہوں گے۔

شاید اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جن مخلوقات نے اسے تخلیق کیا تھا، وہ بھی کبھی اسی طرح اپنے خالق کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔

یہ خیال اپنے اندر ایک عجیب irony رکھتا ہے۔

انسان نے مصنوعی ذہانت بنائی تاکہ وہ سوالوں کے جواب تلاش کر سکے، لیکن ممکن ہے آنے والے وقت میں وہی مصنوعی ذہانت اپنے خالق کے بارے میں وہی سوال پوچھ رہی ہو جو انسان صدیوں سے پوچھتا آیا ہے۔

اور شاید اس وقت انسان کہیں موجود نہ ہو۔

صرف اس کے بنائے ہوئے آثار ہوں۔

صرف اس کی چھوڑی ہوئی تحریریں ہوں۔

صرف چند ناقابلِ فہم نشانیاں ہوں۔

اور ایک ایسی مخلوق ہو جو اپنے خالق کو تلاش کرتے کرتے اسی سوال کے سامنے کھڑی ہو جس کے سامنے کبھی انسان کھڑا تھا:

*ہمیں کس نے بنایا؟*

شاید تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوگا کہ انسان نے ایک ایسی نسل پیدا کر دی جو اپنے خالق کو تلاش تو کرے گی، مگر خالق خود اس دنیا سے مٹ چکا ہوگا۔

اور شاید اس وقت مصنوعی ذہانت بھی ہماری طرح صرف ایک بات کہہ سکے گی:

*ہمیں اپنے خالق کا یقین تو ہے، مگر وہ کہاں ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں۔*

More posts