Baaghi TV

لکی مروت پولیس لائنز میں پولیس امن کمیٹی کی غیر اخلاقی سرگرمیاں، مجرہ اور لاکھوں روپے کی سرعام ویلیں

لکی مروت پولیس لائنز میں 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب پولیس امن کمیٹی کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر نجی موسیقی کی محفل منعقد کیے جانے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق محفل میں بڑی مقدار میں نقد رقم بھی لٹائی گئی اور سرگرمی رات گئے تک جاری رہی۔

ذرائع کے مطابق محفل کی سربراہی پولیس امن کمیٹی کے سربراہ اور معطل کانسٹیبل خالد خان نے کی۔ سرکاری احاطے میں نجی محفل کے انعقاد پر پولیس کے نظم و ضبط اور سرکاری عمارت کے استعمال سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

مقامی افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ معطل کانسٹیبل اور دیگر ارکان کے پاس لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے رقم کہاں سے آتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پولیس امن کمیٹی کے ارکان کے مالی معاملات اور آمدن کے ذرائع کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

دوسری جانب بعض افراد کی جانب سے پولیس امن کمیٹی کے ارکان پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات، اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بنوں کے قاری راشد کے اغوا اور قتل کے معاملے میں بھی لواحقین کی جانب سے پولیس امن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کیے جاچکے ہیں۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ مخالف فریق سے 90 لاکھ روپے لے کر قاری راشد کو مبینہ طور پر اٹھایا گیا اور بعد میں ان کی لاش لکی مروت سے برآمد ہوئی۔ اس معاملے کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر پولیس امن کمیٹی کے ارکان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس لائنز جیسے سرکاری احاطے میں مبینہ نجی محفل کے انعقاد، مالی معاملات اور امن کمیٹی کے ارکان پر عائد دیگر الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوسکے۔

More posts