Baaghi TV

قربانی کا ترازو ہمیشہ غریب کی طرف کیوں جھکتا ہے؟تحریر: طارق نوید سندھو

ملک نازک موڑ پر ہے تو پھر قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟
مہنگائی کا بوجھ عوام پر، مراعات کا سلسلہ اشرافیہ کے لیے کب تک؟
قوم سے صبر کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی اپنی شاہانہ مراعات پر نظر ڈالنا ہوگی

پاکستان جب بھی معاشی بحران میں گھرا، ایک جملہ فوراً ہماری سماعتوں سے ٹکرایا: ’’ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔‘‘
یہ جملہ نیا نہیں۔ برسوں سے سنتے آئے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، حکمران بدلتے رہے، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر ’’نازک موڑ‘‘ وہیں کھڑا رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نازک موڑ پر ہر بار سب سے پہلے جس طبقے کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہے، وہ غریب ہوتا ہے۔
آٹا مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
بجلی کا بل بڑھے تو غریب پریشان۔
پٹرول مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
گیس مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
ٹیکس بڑھے تو غریب پریشان۔
دوائی مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
بچوں کی فیس بڑھے تو غریب پریشان۔
اور جب معیشت کو سہارا دینے کی باری آئے تو بھی کہا جاتا ہے: قوم قربانی دے۔
مگر یہاں ایک سوال مسلسل جواب مانگ رہا ہے کہ قوم کون ہے؟
کیا قوم صرف وہ شخص ہے جو صبح سویرے مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ کسان ہے جو اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ سفید پوش ملازم ہے جو مہینے کی بیس یا تیس تاریخ کو جیب ٹٹولتا ہے کہ اب باقی دن کیسے گزریں گے؟
اگر قوم یہی لوگ ہیں تو پھر اشرافیہ کون ہے؟

یہ سوال کسی فرد یا طبقے سے نفرت کا سوال نہیں، بلکہ ریاستی انصاف کا سوال ہے کہ پاکستان کا غریب پہلے ہی اپنی زندگی میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ اس نے اپنی خواہشات قربان کیں، بچوں کے خواب قربان کیے، علاج مؤخر کیا، تعلیم کے اخراجات میں کمی کی، تہوار سادگی سے منائے، سفر محدود کیے اور کئی مرتبہ دو وقت کی روٹی کو بھی ایک وقت تک لانے پر مجبور ہوا۔
اب اگر اسے پھر کہا جائے کہ ’’ملک نازک موڑ پر ہے، مزید قربانی دو‘‘ تو وہ بے بسی سے صرف اتنا پوچھتا ہے:
’’صاحب! میرے پاس اب قربانی دینے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟‘‘

یہ سوال بہت چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا معاشی المیہ چھپا ہوا ہے۔
کیا قربانی صرف جیبِ غریب سے نکلے گی؟
اگر ملک واقعی مشکل میں ہے تو پھر قربانی کا آغاز بھی اوپر سے ہونا چاہیے۔
حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات کم ہوں۔ سرکاری سطح پر شاہانہ پروٹوکول کا جائزہ لیا جائے۔ غیر ضروری گاڑیاں، مراعات اور اخراجات کم کیے جائیں۔ ریاستی وسائل کے استعمال میں شفافیت لائی جائے۔
اور سب سے بڑھ کر ایسا ٹیکس نظام قائم کیا جائے جس میں بوجھ صرف تنخواہ دار اور عام صارف کی جیب پر نہ پڑے کیونکہ عجیب صورتحال ہے کہ جس شخص کی آمدن پہلے ہی محدود ہے، اس سے ہر خریداری پر ٹیکس وصول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، جبکہ بڑی دولت اور بڑے معاشی مفادات رکھنے والوں سے حقیقی استطاعت کے مطابق وصولی ایک مشکل مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہ طرزِ حکمرانی عوام کے اندر صرف غربت نہیں بڑھاتا، احساسِ محرومی بھی بڑھاتا ہے۔قوم کو قربانی سے نہیں، دوہرے معیار سے شکایت ہے، پاکستانی قوم قربانی سے نہیں گھبراتی۔
ہم نے مشکل وقت میں اپنے وطن کے لیے جانیں بھی دیں، مال بھی دیا اور وقت بھی دیا۔ قدرتی آفات ہوں یا قومی بحران، پاکستانی عوام ہمیشہ آگے بڑھے ہیں۔
مسئلہ قربانی کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کا ترازو ہمیشہ ایک ہی طرف کیوں جھکتا ہے؟
جب غریب کے گھر کا بجٹ بگڑتا ہے تو اسے صبر کا درس دیا جاتا ہے، لیکن جب مراعات یافتہ طبقے کی سہولتیں کم کرنے کی بات آتی ہے تو نہ جانے کتنے قانونی، انتظامی اور معاشی عذر سامنے آ جاتے ہیں۔
غریب سے کہا جاتا ہے:
’’ملک کے لیے برداشت کرو۔‘‘
مگر کیا طاقتور سے بھی کبھی اسی لہجے میں کہا جاتا ہے کہ ملک کے لیے اپنی مراعات چھوڑ دو؟‘‘
اگر کہا جاتا ہے تو پھر عوام کو اس قربانی کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں۔

پاکستان کو صرف پیسہ نہیں، انصاف چاہیے اور معاشی بحران صرف خزانے میں پیسوں کی کمی کا نام نہیں۔ اصل بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ نظام ان کے لیے مختلف اور طاقتور لوگوں کے لیے مختلف ہے۔
ریاست اگر عوام سے قربانی چاہتی ہے تو اسے پہلے اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہو رہا۔
انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قومی وسائل کسی مخصوص طبقے کی آسائش کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قانون کمزور کی گردن پر ہاتھ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کا ہاتھ روکنے کے لیے بھی موجود ہے۔اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم نہیں ہے۔
آخری سوال
آج سوال یہ نہیں کہ پاکستان مشکل میں ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ مشکل کا بوجھ کس کے کندھے پر رکھا جا رہا ہے؟
اگر پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے تو خوشحالی بھی مشترکہ ہونی چاہیے اور مشکلات کا بوجھ بھی۔
اگر قوم سے قربانی مانگی جا رہی ہے تو قربانی کی پہلی مثال ایوانوں سے آنی چاہیے۔
اگر سادگی کا درس دیا جا رہا ہے تو سادگی اقتدار کے ایوانوں میں دکھائی دینی چاہیے۔
اگر ٹیکس مانگا جا رہا ہے تو ٹیکس کا نظام سب کے لیے منصفانہ ہونا چاہیے۔
اور اگر احتساب کی بات کی جا رہی ہے تو احتساب کا آغاز کمزور سے نہیں، طاقتور سے ہونا چاہیے۔
کیونکہ غریب اس ملک سے بھاگنا نہیں چاہتا۔
وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اسے اس ملک میں عزت سے جینے کا حق ملے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔
وہ چاہتا ہے کہ بیماری کی صورت میں علاج ممکن ہو۔
وہ چاہتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر میں راشن کے لیے بھی کچھ بچ جائے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت اسے غربت سے نکال سکے۔
اور شاید سب سے بڑھ کر وہ یہ چاہتا ہے کہ جب اسے ’’قربانی‘‘ کا کہا جائے تو اسے یہ بھی دکھائی دے کہ دوسری طرف بیٹھے لوگ بھی کچھ چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان واقعی نازک موڑ پر ہے تو پھر فیصلہ بھی نازک اور تاریخی ہونا چاہیے،

قربانی صرف غریب کی نہیں، سب کی۔بوجھ صرف عوام پر نہیں، صاحبِ اختیار پر بھی احتساب صرف کمزور کا نہیں، طاقتور کا بھی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو قربانی کے ساتھ انصاف بھی چاہیے، کیونکہ انصاف کے بغیر مانگی گئی قربانی قوم کو مضبوط نہیں کرتی، اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔یہ وقت غریب کو مزید دبانے کا نہیں، اسے سہارا دینے کا ہے۔کیونکہ جس قوم کا عام آدمی ٹوٹ جائے، وہ معیشت کے اعدادوشمار میں شاید زندہ دکھائی دے، مگر حقیقت میں اس کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہوتی ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ غریب مزید کتنی قربانی دے سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ اشرافیہ ملک کے لیے کیا قربانی دینے کو تیار ہے؟

More posts