یورپی و وسطی ایشیائی ممالک کے ورک ویزوں کے نام پر لاکھوں روپے بٹورنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا، 2 ملزمان گرفتار
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی کی ہدایت پر انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ویزا کاروبار کے خلاف خصوصی کارروائی کرتے ہوئے ناروے، چیک ریپبلک، ازبکستان اور دیگر ممالک کے ورک ویزوں کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خفیہ شکایت موصول ہونے پر ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل ملتان کی ٹیم نے سبزہ زار میٹرو اسٹیشن ملتان کے قریب واقع OAAIDDAT Trading & Services کے دفتر پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طور پر ازبکستان میں “پیکنگ ہیلپرز” کی ملازمتوں کے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دیا جا رہا تھا۔
کارروائی کے دوران کاروبار کے مالک رانا محمد احسن اور اس کے ساتھی محمد زبیر کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ دفتر کی تلاشی کے دوران ازبکستان کے ویزوں والے پاسپورٹس، دیگر پاسپورٹس، اصل تعلیمی اسناد، چیک بکس، رسیدی کتابیں اور ریکارڈ رجسٹر قبضے میں لے لیے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق ناروے کے ورک ویزے کے لیے ایک شہری سے 24 لاکھ روپے جبکہ چیک ریپبلک کے ورک ویزوں کے لیے دو الگ شہریوں سے 15، 15 لاکھ روپے وصول کرنے کے معاہدے بھی برآمد ہوئے، ملزم کے موبائل فون سے مزید پانچ پاسپورٹس کی تفصیلات سامنے آئیں جبکہ ابتدائی تحقیقات میں ازبکستان کے ورک ویزوں کے نام پر مختلف شہریوں سے رقوم وصول کرنے کا بھی انکشاف ہوا۔
ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزم نے مبینہ نیٹ ورک کے مزید ساتھیوں کے نام بھی بتائے ہیں۔ ایف آئی اے نے امیگریشن آرڈیننس 1979 اور پاسپو رٹ ایکٹ 1974 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ نیٹ ورک سے متاثر ہونے والے مزید شہریوں اور اس کے دیگر سہولت کاروں کا تعین دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔
