Baaghi TV

نئے صوبے بننے چاہئیں، حدود کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر

مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے نئے صوبوں کے قیام سے قبل عوامی رائے لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، تاہم ان کی حدود اور باؤنڈری کا تعین عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔

چنیوٹ کے علاقے چناب نگر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ وہ نئے صوبوں کے مخالف نہیں ہیں اور پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عوام سے براہِ راست رائے لی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کا مطالبہ ایک دیرینہ معاملہ ہے اور ہزارہ صوبہ بھی ہزارہ کے عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق بننا چاہیے۔ ان کے مطابق کون سا ضلع کس صوبے کا حصہ بنے گا، اس کا فیصلہ بھی عوامی رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام اور ان کی حدود کے تعین کے لیے عوامی ریفرنڈم ضروری ہے، کیونکہ اسمبلیوں میں بعض اوقات بازو مروڑ کر ووٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے حوالے سے کسی بھی فیصلے میں عوام کی مرضی کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ صوبوں کی حدود کے تعین کے لیے قومی سطح پر ایک کمیٹی یا جرگہ تشکیل دیا جائے، جس میں تمام متعلقہ علاقوں کے نمائندوں، سیاسی قیادت، علماء اور عوام کو شامل کیا جائے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں فیصلہ کرنے سے پہلے قوم کی رائے معلوم کرنا اور وسیع تر مشاورت کرنا ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ ہزارہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ براہِ راست عوام کے ووٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، تاکہ نئے صوبوں کے قیام اور ان کی حدود سے متعلق فیصلوں کو عوامی حمایت حاصل ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے بیان کردہ مؤقف ان کی ذاتی رائے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے باضابطہ موقف کے لیے عطاء تارڑ، پرویز رشید، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق سے مؤقف لیا جائے۔

More posts