نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد شہریوں کو گراؤنڈ زیرو کے قریب زہریلی ہوا کے خطرات سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی انتظامیہ نے 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے بعد گراؤنڈ زیرو اور اس کے اطراف فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات اور شہر کے حکام کے ردعمل سے متعلق ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل سرکاری ریکارڈ عوام کے لیے جاری کر دیا ہے۔
میئر ظہران ممدانی نے منگل کو دستاویزات جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ریکارڈ تک رسائی دینے کے لیے ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا یہ اقدام 9/11 ہیلتھ واچ کی جانب سے دائر کیے گئے 2 مقدمات کے تصفیے کے بعد سامنے آیا، جن کے ذریعے تنظیم طویل عرصے سے ان دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی تھی۔
ظہران ممدانی نے دستاویزات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے عوام کو یقین دلایا کہ ہوا سانس لینے کے لیے محفوظ ہے حالانکہ بعد میں سامنے آنے والے ریکارڈز میں خطرناک آلودگی کے شواہد موجود تھے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے کے قریب کیے گئے کئی ٹیسٹوں میں ایسبیسٹوس تقریباً ہر جگہ پایا گیا تھا، جن رہنماؤں پر لوگوں نے اعتماد کیا انہوں نے شہریوں کو زہریلی ہوا سے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرا کر گمراہ کیا۔
نئی دستاویزات کے مطابق 9/11 حملوں کے بعد ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والی گرد و دھویں میں موجود خطرناک مادوں کے باعث ہزاروں افراد صحت کے مسائل کا شکار ہوئے جن میں کینسر سمیت مختلف بیماریاں شامل ہیں۔
ٹی وی میزبان اور 9/11 متاثرین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے جون اسٹیورٹ نے بھی نئی دستاویزات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک شہر کو اکتوبر 2001 تک یہ معلوم نہیں تھا کہ مین ہٹن کی ہوا زہریلی تھی۔
نئی جاری ہونے والی دستاویزات میں فضائی معیار سے متعلق رپورٹس اور سٹی حکام کے درمیان ہونے والی خط و کتابت شامل ہے اکتوبر 2001 کی ایک اہم دستاویز میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومتی صحت سے متعلق ہدایات کے باعث لوگ متاثرہ علاقے میں بہت جلد واپس آئے جس سے انہیں زہریلے مواد کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ظہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کو ان ریکارڈز تک رسائی کے لیے کئی برس تک جدوجہد کرنا پڑی، حالانکہ یہ معلومات ابتدا ہی سے عوام کے سامنے ہونی چاہییں تھیں،11 ستمبر کے حملوں کے بعد دھواں چھٹنے اور ملبے کی گرد بیٹھ جانے سے لوگوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔
ایک اور یادداشت کے مطابق شہریوں کو ملبے اور گرد کو گیلے کپڑوں اور موپس سے صاف کرنے کی ہدایت دی گئی حالانکہ ایسبیسٹوس کی موجودگی کی صورت میں اس کی صفائی تربیت یافتہ اور لائسنس یافتہ ماہرین کے ذریعے کی جانی چاہیے تھی، اس وقت امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے سمیت شہر اور وفاقی حکا م نےحملوں کے چند روز بعد ٹوئن ٹاورز کے اطراف کی ہوا کو محفوظ قرار دیا تھا۔ بعد میں تحقیق میں ہوا میں زہریلے کیمیکلز کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے۔
امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی اس وقت کی سربراہ کرسٹین ٹوڈ وٹمین نے بعد میں اس حوالے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے نے اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی پوری کوشش کی تھی۔
میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ گزشتہ کئی انتظامیہ نے 9/11 سے متعلق مزید معلومات اور وضاحت کا مطالبہ کرنے والوں کو نظرانداز کیا تاہم ان کی انتظامیہ ایسا نہیں کرے گی مزید دستاویزات بھی آئندہ ایک سال کے دوران جاری کی جائیں گی۔
امریکی کانگریس کے رکن جیری نڈلر نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر حکام نے اس وقت ہی گراؤنڈ زیرو اور اس کے اطراف موجود زہریلے مادوں سے لاحق صحت کے خطرات سے متعلق مقامی اور وفاقی حکام کو خبردار کیا تھا، تاہم ان انتباہات کو نظرانداز کیا گیا،، اب سامنے آنے والے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق میئر روڈی جولیانی کی انتظامیہ کو بھی خدشہ تھا کہ ہزاروں امدادی کارکنوں اور مقامی آبادی کو ان زہریلے مادوں کے باعث طویل مدتی اور سنگین صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیویارک سٹی کونسل کی رکن گیل بریور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران 9/11 کے پہلے جواب دینے والے اہلکاروں، متاثرین، ان کے خاندانوں اور زیریں مین ہٹن میں رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے والے افراد نے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کیا، جبکہ اہم سرکاری ریکارڈ عوام کی پہنچ سے باہر رہے۔
9/11 ہیلتھ واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بین شیواٹ نے ظہران ممدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 25 برس بعد پہلی مرتبہ کوئی میئر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے کہ گراؤنڈ زیرو پر موجود زہریلے بادل کے خطرات کے بارے میں حکام کو کیا معلوم تھا اور یہ معلومات انہیں کب حاصل ہوئی تھیں۔
شیواٹ کے مطابق، گزشتہ برسوں میں چار مختلف میئر انتظامیہ نے ایسے ریکارڈ عوام، کانگریس اور سٹی کونسل سے پوشیدہ رکھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ حکام ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے بعد زیریں مین ہٹن اور مغربی بروکلین میں موجود زہریلے کیمیائی مادوں کے خطرات سے کس حد تک آگاہ تھے، جبکہ عوام کو مسلسل بتایا جاتا رہا کہ ہوا ’محفوظ اور قابل قبول‘ ہے۔
واضح رہے کہ یہ ریکارڈ 9/11 حملوں کی 25ویں برسی سے صرف 3 روز قبل ایک قانونی مقدمے کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں ایک متاثرین کے حقوق کی تنظیم نے حکام سے ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ان حملوں میں نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوانیا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
