سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران ایمل ولی اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے
ایمل ولی کے سوالات پر عابد شیر علی غصہ میں آ گئے، عابد شیر علی نے کہا کہ آپ کمیٹی کے ممبر کے طور پر سوال کریں۔جس پر سینیٹر ایمل ولی نے کہا کہ آپ کون ہیں۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے دونوں کو خاموش کروایا ،عابد شیر علی نے کہا کہ آپ ایس ایچ او نہیں ہیں۔
کمیٹی کو سانحہ پمز پر بریفنگ دی، وزارت صحت حکام کی جانب سے کہا کہ یہ واقعہ بہت بڑی ٹریجڈی تھی۔ وزیراعظم کی کمیٹی نے کریمینل کاروائی کا کہا تھا۔ان افراد کے خلاف کریمینل کاروائی کے لئے وزارت داخلہ کو لکھ دیا گیا ہے۔ چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ کیا کوئی ایف آئی آر کٹی ہے ۔ایمل ولی نے کہا کہ فریادی تو والدین تھے ان کو دبا دیا گیا۔ ثمینہ ممتاز زاہری نے کہا کہ اس معاملے میں ریاست کو ہونا چاہیے۔ ایف آئی آر نکالنے میں اتنی دیر لگتی ہے۔مجھے بتاؤ کیا کیا اور کیا ہوا۔ معطل کر دیا وہ کہیں بھاگ جائے گا۔دورہ کر کے اس قبرستان کی کیا حالت دیکھنی جہاں روز لاشیں نکلتی ہیں،یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ اگلے اجلاس میں کھولوں گی کہ وہاں کیا کیا مسائل ہیں۔دوروں سے کیا کر لیا ابھی تک ایف آئی آر نہیں ہوئی۔ حکام نے کہا کہ یقینی بنایا جائے گا کہ آپ کی سفارشات پر عملدرآمد ہو۔
