Baaghi TV

اقتدار تو برقرار ہے، مگر کیا مسلم لیگ (ن) اپنی جماعتی قوت کھو رہی؟تجزیہ:شہزاد قریشی

مسلم لیگ (ن) کا اصل سنہری دور: جب حکومت بھی مضبوط تھی اور جماعت بھی طاقتور تھی
نواز شریف کے پندرہ رتن سے آج کے محدود فیصلوں تک: مسلم لیگ (ن) کا بدلتا سیاسی سفر

تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) کا نام صرف ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہیں بلکہ گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے بھی لیا جاتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے مختلف ادوار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں جماعت اور حکومت ایک دوسرے کی قوت بنتے تھے، جبکہ آج حکومت اور جماعت کے درمیان وہ ہم آہنگی کمزور دکھائی دیتی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتیں اور بڑی سیاسی جماعتیں صرف ایک قائد کے بل بوتے پر نہیں چل سکتیں بلکہ ان کے گرد ایک مضبوط، باصلاحیت اور بااختیار ٹیم موجود ہوتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر کے "نو رتن” تاریخ میں مشہور ہیں جنہوں نے سلطنت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی ایسے کئی سیاسی اور انتظامی دماغ موجود تھے جن کی بات نہ صرف سنی جاتی تھی بلکہ اس پر عمل بھی ہوتا تھا۔
وفاق میں نواز شریف کے گرد موجود وزراء، مشیر اور تجربہ کار سیاسی شخصیات حکومتی نظام کا متحرک حصہ تھیں۔ بیوروکریسی انہیں سنجیدگی سے لیتی تھی اور فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) محض اقتدار کی جماعت نہیں بلکہ عوامی سطح پر ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھری۔ اس دور میں حکومت اور جماعت کے درمیان فاصلہ نہیں تھا، بلکہ دونوں ایک دوسرے کی طاقت تھے۔
پنجاب میں بھی یہی صورتحال نظر آتی تھی۔ انتظامی معاملات میں میرٹ، جوابدہی اور کارکردگی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ بیوروکریسی خود کو عوامی خدمت کا ذمہ دار سمجھتی تھی اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون نظام کا حصہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جسے مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور حامی آج بھی سنہری دور کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں، اگرچہ میاں شہباز شریف وزیراعظم پاکستان ہیں اور بطور منتظم ان کی صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ہو چکا ہے۔ بعض حکومتی شخصیات اور وزراء یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی رائے کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ماضی میں وفاقی کابینہ کے ارکان کو حاصل تھی۔ یہی احساس جماعتی سطح پر بھی بے چینی پیدا کرتا ہے۔
پنجاب میں بھی اسی نوعیت کی گفتگو سننے کو ملتی ہے کہ چند مخصوص شخصیات کے گرد اختیارات کا ارتکاز بڑھ گیا ہے، جبکہ دیگر منتخب نمائندے خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں۔ یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن سیاسی جماعتوں کی طاقت صرف اقتدار سے نہیں بلکہ کارکنوں، مقامی قیادت اور عوامی رابطے سے قائم رہتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت چل رہی ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) بحیثیت جماعت آج کہاں کھڑی ہے؟ کیا گاؤں، قصبے، بازار اور گلی محلوں میں وہی جوش و خروش موجود ہے جو نواز شریف کے ادوار میں دکھائی دیتا تھا؟ کیا کارکن خود کو اسی طرح بااختیار محسوس کرتے ہیں جیسے ماضی میں کرتے تھے؟
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی عوامی شناخت اور سیاسی مقبولیت میں میاں محمد نواز شریف کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ادوارِ حکومت نے جماعت کو ایک سیاسی برانڈ بنایا، جس کی بنیاد ترقی، انتظامی کارکردگی اور عوامی رابطے پر رکھی گئی۔ آج اگر جماعت اپنی تاریخی طاقت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف حکومتی کارکردگی پر نہیں بلکہ جماعتی ڈھانچے، کارکنوں کے اعتماد اور اجتماعی قیادت کے فروغ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حکومتیں طاقت سے چل سکتی ہیں، لیکن جماعتیں صرف اعتماد، نظریے اور اجتماعی قیادت سے زندہ رہتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اقتدار کے ساتھ ساتھ اپنی جماعتی بنیادوں کو کس حد تک مضبوط رکھ پاتی ہے۔

More posts