امریکا میں ہر چار میں سے صرف ایک شہری ایران پر امریکی حملوں کا حامی ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی حملوں کی حمایت محدود دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ حکمران پارٹی ’ ریپبلیکن‘ بھی تقسیم کی شکار ہے، رائٹرز اور سروے ادارے اپسوس کی جانب سے کیے گئے مشترکہ جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف ہر 4 میں سے ایک امریکی ایران پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔
ایپسوس سروے کے مطابق ایران پر حملوں سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی ایک فیصد گرگیا،27 فیصد افراد نے امریکی حملوں کی حمایت کی اور43 فیصد نے مخالفت کی جب کہ 29 فیصد افراد اس بارے میں یقینی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکے۔
امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے حوالے سے ریپبلکن ووٹرز میں حمایت نسبتاً زیادہ ہے، تاہم وہ بھی مکمل طور پر متفق نہیں۔ تقریباً 55 فیصد ریپبلکنز نے امریکی اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی، 13 فیصد نے مخالفت کی جبکہ 32 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا، تقریباً 42 فیصد ریپبلکن جواب دہندگان نے کہا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں تو وہ اس آپریشن کی حمایت کم کر دیں گے۔
پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کے معاملے پر امریکی عوام کی رائے منقسم ہے اور جانی نقصان کی صورت میں حمایت مزید کم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے جب کہ امریکا اور اسرائیل بھی ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی حکام شہید ہوگئے ہیں۔
بیروت اور جنوبی لبنان پر شدید اسرائیلی بمباری، 31 جاں بحق، درجنوں زخمی
