Baaghi TV

غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

israel

غزہ میں جاری جنگ میں امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف ہو اہے-

رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امریکی ساختہ ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کے نتیجے میں تقریباً 3,000 فلسطینی فضا میں تحلیل ہو گئے، جن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ،رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں،طبی اور دفاعی ماہرین نے ان بموں کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں-

ان بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اس قدر شدید تپش میں انسانی جسم چند سیکنڈز کے اندر براہِ راست راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہداء کی شناخت یا باقیات کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے یہ بم ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر ایک ‘ویکیوم’ پیدا کر دیتے ہیں، جس سے عمارتوں کے اندر موجود لوگ بھی بچ نہیں پاتے۔

ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صدی کا بدترین جنگی جرم قرار دیا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے غزہ کے اس امتحان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

More posts