Baaghi TV

عالمی جریدہ پاکستان کی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کا متعرف

usa

عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق پاکستان نے اپنی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی ہے-

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو بڑھایا بلکہ بھارت کو بھی سفارتی تنہائی اور بھاری ٹیرف کے دباؤ میں مبتلا کر دیابھارت کو امریکا کا روایتی اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر اس نے امریکی ثالثی کے دعوے کو اپنی خودمختاری کی توہین قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت نہ تو QUAD Summit میں شمولیت حاصل کر سکا، نہ صدر ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا،اسی بحر ان کو پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ حکمت عملی میں تبدیل کیا، جسے صدر ٹرمپ نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔

جریدے کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیا ں پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گی۔

جریدے کے مطابق اسی دوران امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا بھی اعلان کیا، جب کہ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور تعلقا ت کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے تعلقات کی مضبوطی، علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدلنا اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے، واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اور حکمت عملی نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو بلند کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔

دی ڈپلومیٹ اور دیگر ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے ثالثی کو جھٹلانے اور امریکی ناراضی کے سبب اسے نہ صرف تجارتی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس بحران کو اپنے فائدے میں بدل کر سفارتی میدان میں اہم کامیابی حاصل کی۔

More posts