لاڑکانہ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک زیرِ حراست ملزم کو ماورائے عدالت قتل کیے جانے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی موبائل ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار زمین پر زخمی حالت میں پڑے شخص پر قریب سے فائرنگ کر رہا ہے، جس کے بعد مذکورہ شخص جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی لاڑکانہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی بھی اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانون شکنی کا ثبوت ملا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث پولیس اہلکار عرض محمد جتوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج نہیں ہو سکا، جس پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی جیکب آباد کلیم ملک کی سربراہی میں محکمانہ تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم ان تحقیقات کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔دوسری جانب مقتول کے ورثاء نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بھائی علی گل کلہوڑو بے گناہ تھا اور اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ علی گل کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا اور اب واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
