بھارت میں جعلی ڈگریوں اور امریکی H-1B ویزا کے حصول سے جڑے ایک بڑے منظم فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی جریدے دی کمیون نے مودی کی نااہلی اوربھارت میں منظم جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا،رپورٹ کے مطابق کیرالاسے پکڑا گیا منظم نیٹ ورک پورے بھارت میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کرچکا ہے کیرالا میں فراڈ نیٹ ورک سے 22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے، پولیس چھاپے کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔
بھارتی جریدے کے مطابق کیرالا پولیس نے100 کروڑ روپےکا مکروہ دھندا کرنے والے متعدد افراد کو گرفتارکرلیا ہے جبکہ پولیس نے نیٹ ورک سے 28 یونیورسٹیوں کی جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمد کی ہیں، اس جعلسازی کا یہ منظم گروہ اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کے لیے بھی لوگوں کو جعلی ڈگریاں فراہم کرتا تھا اور بھارتی شہری H-1B ویزا کے حصول کے لیے بھاری رشوت تک دیتے ہیں۔
نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی،سہیل آفریدی
اس حوالے سے بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ منظم گروہ میڈیکل، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں سےمتعلق 100 سے زائد جعلی ڈگر یاں فراہم کر چکا ہےامریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیزکی ڈائریکٹرجیسیکاوان نے بھارت میں ویزاجاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قرارد ےدیا ہے۔
ڈائریکٹر سی آئی ایس نے انکشاف کیا کہ امریکا بھجوانے کے لیے بھارت میں 36 ہزار سےزائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئی ہیں اور یوں بھارت میں یومیہ200 سےزائد’ایچ ون بی ویزا‘ جاری کیے جارہے ہیں جنمیں80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہیں،بھارتی شہری فقط ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں ڈگری سے متعلق کوئی علم نہیں۔
وینزویلا کے صدر امریکی حراست میں،اسپین نے ثالثی کی پیشکش کردی
بھارتی نژاد امریکی سفارت کار مہوش صدیقی نےبھی بھارتی ریاست چنئی قونصل خانے کو دنیا کا سب سے بڑا ایچ ون بی ویزا فراڈ کا مرکز قرار دے دیا ہے-
