Baaghi TV

پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ ہوئی تو کیا شہباز حکومت ختم ہو جائے گی؟

‎پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات مزید کشیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت پر کھل کر تنقید کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہو جاتی ہے تو کیا شہباز شریف کی حکومت فوری طور پر ختم ہو جائے گی؟
‎پارلیمانی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ صورتحال میں ایسا فوری طور پر ہوتا نظر نہیں آتا۔
‎قومی اسمبلی کے 336 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کے لیے 169 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت حکومتی اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 244 نشستیں موجود ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے 132 ارکان ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی 74 نشستوں کے ساتھ اتحاد کی دوسری بڑی جماعت ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی، آزاد ارکان اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی حکومت کا حصہ ہیں۔
‎اگر پیپلز پارٹی اپنے تمام 74 ارکان کے ساتھ حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہے تو حکومتی اتحاد کی تعداد کم ہو کر تقریباً 170 نشستیں رہ جائے گی، جو سادہ اکثریت کے لیے درکار 169 نشستوں سے ایک زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق شہباز شریف کی حکومت فوری طور پر ختم نہیں ہوگی اور اسے ایوان میں عددی برتری حاصل رہے گی، اگرچہ اس کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہو جائے گی۔
‎سینیٹ میں بھی حکومتی اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ 96 رکنی ایوان میں اتحاد کے پاس 64 نشستیں ہیں، جن میں پیپلز پارٹی کی 26 اور مسلم لیگ (ن) کی 20 نشستیں شامل ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی الگ ہو جاتی ہے تو حکومت کی سینیٹ میں واضح اکثریت متاثر ہوگی، جس سے آئندہ قانون سازی، آئینی ترامیم اور اہم سیاسی فیصلوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ پیپلز پارٹی کی علیحدگی حکومت کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ہوگی، تاہم صرف اس فیصلے سے حکومت فوری طور پر نہیں گرے گی۔ البتہ ایسی صورتحال میں حکومت کو ہر اہم قانون سازی اور اعتماد کے ووٹ کے موقع پر اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان کی مکمل حمایت برقرار رکھنا ہوگی، جبکہ سیاسی عدم استحکام میں اضافے کا بھی خدشہ موجود رہے گا۔

More posts