2025 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی قیادت ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں بھارتی شخصیت جے شاہ کی سربراہی کو عالمی کرکٹ میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور سیاسی اثرورسوخ روکنے میں ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق آئی سی سی اس عرصے میں غیرجانبدار عالمی ادارے کے بجائے طاقتور بورڈز کے دباؤ میں فیصلے کرتی دکھائی دی۔ جے شاہ جو بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں، انہوں آج تک ایک بار بھی کرکٹ بیٹ کو نہیں پکڑا اور صرف اپنے والد کے اثرورسوخ کی وجہ سے آج کرکٹ کی دنیا کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔ 2025 کے دوران پاک بھارت کرکٹ تعطل، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور میچز کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایشیا کپ ٹرافی کا تنازعہ بھی سامنے آیا جس نے آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل دونوں کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے۔ ایشیا کپ کی میزبانی، ٹرافی کی نمائش اور شیڈول سے جڑے معاملات میں شفافیت کا فقدان نظر آیا جس پر کئی رکن ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اجے شاہ کے دور میں ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ کو بھی سیاست سے الگ نہ رکھا جا سکا جس کے نتیجے میں ٹرافی تنازعہ ایک علامت بن کر سامنے آیا کہ کس طرح طاقتور بورڈز کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمزور فیصلوں کی بدولت ٹرافی جیتنے کے باوجود آج تک ایشین چیمپیئن بھارت کو نہیں مل سکی۔ اگر آئی سی سی کی قیادت مضبوط ہوتی تو اس تنازعے کو بروقت اور غیرجانبدارانہ فیصلوں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا۔ 2025 میں بھارت کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار اور پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا بھارت جانے سے انکار کرنے کا بھی اسی کمزور قیادت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی ان معاملات میں ثالث کا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث نیوٹرل وینیوز اور متبادل انتظامات مستقل حل کی شکل اختیار نہ کر سکے۔
دراصل 2025 آئی سی سی کے لیے ایک فیصلہ کن سال تھا مگر جے شاہ کی قیادت میں ادارہ کرکٹ کو سیاست سے آزاد رکھنے میں ناکام دکھائی دیا۔ اگر آئی سی سی نے اپنی خودمختاری بحال نہ کی تو مستقبل میں ایشیا کپ جیسے ایونٹس سمیت عالمی کرکٹ مزید تنازعات، بائیکاٹس اور تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے جس کا نقصان براہ راست کھیل اور اس کے کروڑوں شائقین کو ہوگا۔
