علماء کرام کے لیے الاؤنس مریم نواز کا باوقار اور تاریخی فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے علماء کرام کے لیے سرکاری خزانے سے ماہانہ الاؤنس کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جسے محض ایک فلاحی اقدام کہنا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ درحقیقت یہ قدم ریاست اور مذہبی طبقے کے درمیان ایک نئے، باوقار اور ذمہ دارانہ تعلق کی بنیاد رکھتا ہے جو ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آیا۔ علماء کرام صدیوں سے پاکستانی معاشرے کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ مساجد میں امامت، خطابت، دینی تعلیم، نکاح، جنازہ، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی جیسے فرائض انجام دینے والے یہ افراد عملاً ریاست کے غیر اعلانیہ سماجی خدمت گار رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی معاشی مشکلات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ایسے میں مریم نواز کا یہ فیصلہ ایک دیرینہ محرومی کا ازالہ ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ معاشرتی استحکام صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں آتا بلکہ ان افراد سے آتا ہے جو اخلاقیات، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ علماء کرام کو معاشی تحفظ دینا دراصل مساجد کے نظام کو مضبوط بنانا، دینی تعلیم کو باوقار بنانا اور انتہاپسندی کے مقابل اعتدال پسند بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی نعرے یا وقتی فائدے کے بجائے ایک سوچے سمجھے وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز نے اس تاثر کو بھی توڑا ہے کہ جدید حکمرانی اور دینی طبقہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ ترقی، فلاح اور دینی اقدار ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ البتہ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر عملدرآمد شفاف، منصفانہ اور بلاامتیاز ہو۔
اگر اس فیصلے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھ کر مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ بلاشبہ علماء کرام کے لیے الاؤنس کا یہ اعلان مریم نواز شریف کے دورِ حکومت کا ایک نمایاں اور مثبت باب ہے، جو ریاستی ذمہ داری، سماجی شعور اور قومی اقدار کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے اقدامات ہی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔ یاد رہے مریم نواز شریف کے دادا میاں محمد شریف علماء اکرام کا بے حد احترام کرتے تھے، اور دینی اداروں کو معاشرے کی اخلاقی بنیاد سمجھتے تھے، مریم نواز شریف کی جانب سے علماء اکرام کے لیے الاؤنس کا حالیہ فیصلہ دراصل اسی خاندانی روایت کا تسلسل ہے جسکی بنیاد میاں محمد شریف مرحوم نے رکھی تھی۔
