اٹلی نے ایران میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے فوجی دستوں کے تحفظ کے لیے بھی اضافی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اطالوی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران میں اس وقت تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت تہران میں مقیم ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں اطالوی مسلح افواج کے 900 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جن میں سے تقریباً 500 عراق اور 400 کویت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اطالوی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔اطالوی حکومت نے ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی یورپی یونین، نیٹو اور جی سیون کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، تاکہ صورتحال کو کشیدگی سے نکالا جا سکے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور خطے میں استحکام و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔
تہران میں خوف اور بے چینی کی فضا
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں جنگ کے خدشات اور سماجی بے چینی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ شہری بظاہر معمولاتِ زندگی جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں کی ہلاکت خیز کارروائیوں کا صدمہ ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاستی میڈیا پر ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی سرکاری جنازہ تقریبات دکھائی جا رہی ہیں، جبکہ عدلیہ نے گرفتار مظاہرین کے خلاف سخت اور تیز رفتار سزاؤں کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کی دھمکیاں اور خطے میں فضائی و فوجی اقدامات
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زمینی افواج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران مناسب وقت پر جواب دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے بیرونی طاقتیں ملوث ہیں اور یہ اقدامات فراموش نہیں کیے جائیں گے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے اسرائیل اور اردن کے لیے اپنی پروازوں کو محدود کرتے ہوئے صرف دن کی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح قطر میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکالنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
ایران میں ساتویں روز بھی انٹرنیٹ کی مکمل یا جزوی بندش جاری ہے۔ سائبر سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ اقدام مظاہروں کی اطلاعات کو روکنے اور عالمی نگرانی محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 2,400 سے زائد مظاہرین ہلاک اور 18 ہزار سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد انٹرنیٹ بندش کے باعث سامنے نہیں آ پا رہی۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ ایک بار پھر پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔
