ملائیشیا کے وزیر اعظم کے محکمہ برائے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر ذوالکفلی حسن کے ایک بیان نے ملک میں شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے-
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ کام کا دباؤ، سماجی اثرات اور مذہبی عمل کی کمی ایسے عوامل ہیں جو لوگوں کو ہم جنس پرستی کی طرف لے جاتے ہیں، ان کے اس بیان پر عوام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے یہ بیان ایک تحریری پارلیمانی جواب میں دیے، جو انہوں نے اپوزیشن کی اسلامی جماعت پاس (PAS) سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ سیتی زائلہ محمد یوسف کے سوال کے جواب میں پیش کیا۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
ملائیشین وزیر نے اپنے جواب میں کہا کہ سماجی اثرات، کام کا دباؤ اور دیگر ذاتی عوامل ان وجوہات میں شامل ہیں جنہیں وہ ہم جنس پرستی کی بنیاد قرار دیتے ہیں، 2022 سے 2025 کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں سے متعلق مجموعی طور پر 135 کیسز گرفتاریاں یا عدالتی کارروائیوں کی صورت میں ریکارڈ کیے گئے۔
مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، فیلڈ مارشل
یہ بیان پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کے بڑھتے رجحانات سے متعلق ایک سوال کے تناظر میں سامنے آیا، جس میں عمر، نسل اور ممکنہ وجوہا ت پر معلومات طلب کی گئی تھیں،وزیر ذوالکفلی حسن کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا-
