چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا اور اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے ٹیمو ں کی تعداد میں 2 کا اضافہ کردیا گیا ہے، ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ جبکہ رنر اپ ٹیم کو 25 لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ کرکٹ کی ترقی کے عمل کو مز ید مضبوط بنایا جا سکےپاکستان کی قومی ٹیم میں 60 فیصد کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسپورٹس بورڈ کے ساتھ قریبی اشتراک سے کام کیا جا رہا ہے، صوبے میں کرکٹ اکیڈمیز اور گراؤنڈز کے قیام و بہتری کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ریجنل ٹیلنٹ کو جتنا زیادہ پروموٹ کیا جائے گا وہ پاکستان کی کرکٹ کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا، ہمارا مقصد یہ ہے کہ ٹیلنٹ ضائع نہ ہو بلکہ اسے مزید نکھار کر قومی سطح تک پہنچایا جائے، پشاور ریجن میں 2 ٹیمیں بنارہے ہیں۔
آئی سی سی سے متعلق معاملات پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا اور اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور اب ان کی بات مانی گئی ہے، اسی لیے ہم انڈیا کے ساتھ کھیل رہے ہیں مستقبل کے بارے میں صرف اللہ بہتر جا نتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایپیکس کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے اور اس کے بعد فالو اپ میٹنگ بھی ہوئی ہے، ایک بات واضح ہے کہ انسداد دہشتگردی کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تعریف ہے، اسلام آباد میں ہونے والے واقعات میں بھی اداروں نے مؤثر کارروائی کی ہے اور آئندہ بھی مشترکہ کوششو ں سے دہشتگردوں کو شکست دی جائے گی۔
ڈیجیٹل شناخت اور ای کے وائی سی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت ہر شہری کی تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناخت ہوگی، اس سے سرمایہ کاری، بینکاری اور دیگر شعبوں میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے، اسلام آباد دھماکے کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔