وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے مجھ سے 10 ارب روپے مانگے اور میں بھی دینے کو تیار ہو گیا۔ میں نے پوچھا کہ ان کو اگر آپ نے مغرب میں بسانا ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ یہ واپس نہیں آئیں گے لیکن گارنٹی کوئی نہیں تھی، ہم ایسے ہی تو پیسے نہیں پکڑا سکتے،
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہناتھا کہ اگر وہ سنجیدہ ہوتے کوئی نتیجہ نکلتا،امن کے ساتھ رہتے اور ہمیں کوئی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے تو ہم تیار ہیں، لیکن اگر وہ خون کی قیمت مانگتے ہیں تو ہم خون کا حساب خون سے لیں گے،محمود خان اچکزئی سے میرا پرانا تعلق ہے لیکن پاک فوج کو 4 ضلعوں کی فوج کہنا بطور اپوزیشن لیڈر جو کہ ایک قومی عہدہ ہے اس کی تذلیل ہے،محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری فوج 4 ضلعوں کی فوج ہے۔ ان جیسے منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین کے منہ سے یہ بات انتہائی غیر زمہ دارانہ ہے ، افغانستان سے منشیات اور اسلحہ آ رہا ہے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے میں سب کچھ وہاں سے آ رہا ہے یہاں سے سامان افغانستان جاتا ہے پھر پاکستان آ جاتا ہے اور اس پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں دی جاتی،جو کہتا ہے کہ افغانستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہےوہ خام خیالی میں مبتلا ہےہمیں ان سے کوئی محبت نہیں۔ ہمارے 3200 شہدا ہیں جو پاکستان کے ہر صوبےاورخطےسے ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، یہ ہماری مٹی کی عظمت کی گواہی ہے اور ہم ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔افغانستان میں اب پختونوں کی حکومت ہے، کیا 65 سال کی مہمان نوازی کافی نہیں ہے، اب انہیں ہر صورت واپس جانا چاہیے،
