Baaghi TV

بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

More posts