Baaghi TV

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے،سعودی عرب

riyadh

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے اور سعودی عرب کے مؤقف کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کی تھی اور یہ کارروائی مبینہ طور پر ہفتوں پر محیط لابنگ کے بعد عمل میں آئی تاہم امریکا میں موجود سعودی سفارتخانے نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری تھ۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے 4 باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھارپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ خطے کی صورتحال اور اتحادیوں کی تشویش کے تناظر میں امریکا نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

کچھ قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا چاہتی ہیں،علامہ طاہر اشرفی

اس رپورٹ کے بعد واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل اور قابل اعتبار معاہدے کی حمایت کی ہے اور کسی بھی مرحلے پر امریکی صدر کو مختلف یا جارحانہ پالیسی اپنانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

سعودی مؤقف ہے کہ ریاض کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کشیدگی میں کمی، مذاکرات، علاقائی استحکام اور مسلم دنیا میں اتحاد کا فروغ ہے۔ اس دعوے کی تائید تاریخ کے مختلف ادوار میں سعودی کردار سے بھی ہوتی ہے، جہاں ریاض نے سفارتی، انسانی اور مالی سطح پر متعدد مسلم ممالک کی مدد کی۔

عمران خان کا آنکھ کے علاج کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

More posts