Baaghi TV

پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک، ایران کے معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھائی: اسحاق ڈار

ishaq

‎سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے معاملے پر ہر عالمی فورم پر مؤقف پیش کیا گیا۔
‎انہوں نے بتایا کہ ان کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رہا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ سے بھی متعدد بار بات چیت ہوئی۔ وہ جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
‎اسحاق ڈار نے کہا کہ 12 جون کو ان کی اور فیلڈ مارشل کی عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں علاقائی کشیدگی پر گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان کو امید تھی کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا کیونکہ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
‎انہوں نے بتایا کہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کے سامنے بھی ایران کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ پرامن جوہری توانائی کا استعمال ایران کا حق ہے۔
‎نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے امریکی اڈوں پر حملے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم پاکستان نے ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر پسِ پردہ کوششیں جاری رکھیں۔
‎اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے 14 جون 2025 کو ایرانی قیادت سے رابطہ کیا، جبکہ ایران پر پابندیاں ختم کرنے سے متعلق قرارداد چین اور روس کے ساتھ مل کر پیش کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
‎انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔ یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے بھی رابطے کیے گئے۔
‎سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کا پابند ہے اور ایران کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق بعض معاملات پر ایران نے ضمانت طلب کی جو پاکستان نے فراہم کی۔
‎آخر میں انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو ملک کے اندر سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں اور اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی رہنماؤں کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔

More posts