مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی فضائی کارروائیاں موجودہ رفتار سے “ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ” جاری رہیں تو خلیجی ممالک کے لیے اپنے دفاع کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اورقطراپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے پریس دفاتر نے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام کمزور نہیں ہوئے اور ان کے پاس دفاعی سازوسامان وافر مقدار میں موجود ہے۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 182 میں سے 169 میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 645 ڈرون مار گرائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 44 میزائل یا ڈرون ریاستی حدود کے اندر آ کر گرے۔دوسری جانب قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 104 میں سے 101 میزائل ناکارہ بنائے اور 39 میں سے 24 ڈرون تباہ کیے۔
اگرچہ یہ شرح کامیابی بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔سنگاپور کی National University of Singapore سے وابستہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو Jean-Loup Samaan نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ایرانی حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے (متحدہ عرب امارات) ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ اپنے موجودہ دفاعی وسائل پر انحصار نہیں کر سکتے۔”
دوسری جانب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دفاعی ایڈیٹر Shashank Joshi کے مطابق ایران کے پاس مختلف رینج کے تقریباً 2,500 میزائل موجود ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ “شاہد” ڈرونز کی درست تعداد واضح نہیں۔جوشی نے خبردار کیا کہ اگر اسی نوعیت کے حملے مزید ایک ہفتہ جاری رہے تو “انتہائی جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت” پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھر لندن میں قائم تھنک ٹینک ے سینئر فیلو Hasan Alhasan کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ممکنہ طور پر دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا “اگر خلیجی ریاستیں اپنی جدید اور متنوع فضائی افواج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میدان کسی حد تک کھلا ہو سکتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں، فضائی حدود کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم یواے ای اور قطر نے انٹر سیپٹرز کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کر دیے،یواے ای اور قطر کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، امریکی اخبار کے مطابق یوکرین کی 4 سالہ جنگ میں معاونت کے بعد پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔
