ایران نے جاپان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دے دیا-
جاپان ، نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی،اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہےجاپان کے حوالے سے اس بات کا تازہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر جزوی یا منتخب ناکہ بندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، یہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ہمارے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو ہم پر حملہ کرتے ہیں، دیگر ممالک کے جہاز آبنائے سے گزر سکتے ہیں،ہم ان ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ محفوظ گزرگاہ کا کوئی طریقہ نکالا جا سکے، ہم انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں صرف ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تاکہ اس راستے کے بار ے میں بات چیت کی جا سکے۔
شاہد آفریدی کا پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت
واضح رہے کہ جاپان اپنی خام تیل کی درآمدات کا 90 فی صد سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے۔
