Baaghi TV


ایل این جی بحران کے خدشات، پاکستان کس طرح توانائی نظام کو سنبھال رہا ہے

sa


آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پاکستان کو ایل این جی کی ممکنہ قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صورتحال اتنی سنگین نہیں جتنی ظاہر کی جا رہی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے تجزیہ کار علی خضر کے مطابق پاکستان نے طویل المدتی معاہدوں اور متنوع توانائی نظام کے ذریعے اپنی سپلائی کو کافی حد تک مستحکم رکھا ہوا ہے۔ ماضی میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ادائیگیوں کے مسائل کے باعث کارگو منسوخی اور بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پاکستان اس صورتحال سے کافی حد تک محفوظ رہا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس طویل المدتی معاہدوں کی وجہ سے گیس کی دستیابی برقرار ہے، تاہم محدود اسٹوریج کے باعث ماضی میں مقامی گیس پیداوار کم رکھی جاتی تھی۔ اب مقامی پیداوار بڑھا کر ممکنہ قلت کو کم کیا جا سکتا ہے اور بجلی گھروں کو چلایا جا سکتا ہے۔
‎پنجاب میں گرمیوں کے دوران لوڈشیڈنگ کا امکان موجود ہے کیونکہ وہاں زیادہ تر بجلی ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ جنوبی پاکستان میں نیوکلیئر اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کے باعث بجلی کی فراہمی نسبتاً مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
‎اس کے علاوہ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو توانائی کے خلا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی کمی کو جزوی طور پر تیل کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ روس نے رعایتی قیمت پر خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس حوالے سے دو بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان کی ریفائنریز روسی خام تیل کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں، اور دوسری یہ کہ درآمد کیلئے ممکنہ طور پر امریکا کی اجازت درکار ہوگی، جیسا کہ بھارت کو استثنیٰ حاصل ہے۔

More posts