Baaghi TV

پی ایس ایل 11: بال ٹیمپرنگ کا الزام، فخر زمان پر سنگین چارج عائد

icc wc

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے چھٹے میچ میں کراچی کنگز کے خلاف بال سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر لاہور قلندرز کے فخر زمان کو لیول تھری افینس پر چارج کردیا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فخر زمان نے میچ ریفری روشن مہاناما کی زیر صدارت ہونے والی سماعت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے، آئندہ 48 گھنٹوں میں ایک اور سماعت ہوگی جس کے بعد میچ ریفری اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ اگر فخر زمان قصوروار پائے گئے تو لیول تھری جرم کے تحت کم از کم ایک میچ کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اتوار کے روز لاہور میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ 11 کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز کو کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے الزام پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا میچ کے آخری اوور سے قبل جب کراچی کنگز کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے، امپائرز نے قومی کرکٹر فخر زمان کو گیند کی حالت غیر منصفانہ طریقے سے تبدیل کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کراچی کنگز کو پانچ پنالٹی رنز دے دیے تھے تاہم فخر زمان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔

پنالٹی رنز ملنے کے بعد کراچی کنگز کو جیت کے لیے صرف 9 رنز درکار رہ گئے تھے، جبکہ بیٹنگ سائیڈ کی درخواست پر گیند بھی تبدیل کی گئی تھی اس کے بعد کراچی کنگز نے تین گیندیں قبل ہی ہدف حاصل کرتے ہوئے میچ اپنے نام کرلیا تھا فخر زمان نے میچ کے فوری بعد ہونے والی سماعت میں بال ٹیمپر نگ کے الزامات کو مسترد کیا۔

کرکٹ قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کو سوائے گیند چمکانے کے اُس کی حالت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، قانون 41.3.2 کے تحت کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے گیند کی حالت میں تبدیلی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے قواعد کے مطابق امپائرز اس قسم کے واقعات کی رپورٹ میچ ریفری کو دیتے ہیں، جو متعلقہ کھلاڑیوں کے خلاف مناسب کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں میچ کے دوران کراچی کنگز کی قیادت آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر کر رہے تھے، جو 2018 میں آسٹریلیا کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے 12 ماہ کی پابندی کا سامنا کرچکے ہیں۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے لاہور قلندرز کے کپتان اور قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مکمل معلومات نہیں، اور ٹیم ویڈیو دیکھنے کے بعد اس پر بات کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان سپر لیگ اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس واقعے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا

More posts