پاکستان اور افغانستان کےدرمیان سفارتی بات شروع ہوگئی ہے،
پاکستان اورافغانستان کےدرمیان جونیئرسطح کی سفارتی بات چیت چین کے شہر ارمچی میں شروع ہوگئی،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان سےبات چیت کے لیے تیار ہے مگر دہشت گردی کےٹھکانوں کونشانہ بنانےکی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی،پاکستان نے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کو چین میں مذاکرات کے لیے مقرر کیا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں پاک افغان امن جرگہ، سیاسی و قبائلی رہنماؤں نےافغانستان پالیسی میں پارلیمان کو اختیار دینے کا مطالبہ کر دیا،پاک افغان امن جرگے کے دوران سیاسی مشران، علماء کرام اور قبائلی رہنماؤں نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار پارلیمان اور منتخب سیاسی نمائندوں کو دیا جائے تاکہ مسئلے کا واضح اور عملی حل نکالا جا سکے۔جرگے کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت افغانستان کے بارے میں تمام پالیسیاں یک طرفہ طور پر بنائی جا رہی ہیں اور ان سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اختیار انہیں سونپ دیا جائے تو وہ مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔بی بی سی پشتو کے معروف صحافی طاہر خان کے مطابق جرگے کے شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور پاک افغان تعلقات میں پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کام کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ جرگہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں منعقد کیا گیا تھا۔
پشاور میں پاک افغان کشیدگی ختم کرنے کے حوالےسے منعقدہ جرگہ کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک مسلمہ عالمی اصولوں کے مطابق اس بات پر اتفاق کریں کہ ان کی سرزمین نہ تو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوگی اور نہ ہی کسی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی،مزید کہا گیا کہ تمام اختلافات اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،پائیدار امن کے لیے باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو ناگزیر قرار دیا گیا،حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد کو فروغ دیا جائے۔
