پاسداران انقلاب نےآبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل سے منسلک ایک تجارتی جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں پہلے ہی جنگی صورتحال کے باعث آمد و رفت شدید متاثر ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔تاحال اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ “ضروری اشیاء” لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ تجارتی امور کے نائب سربراہ ہومان فتحی کی جانب سے جاری ایک ہدایت نامے میں کیا گیا۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ خوراک، بنیادی اجناس اور مویشیوں کی خوراک جیسی اشیاء لے جانے والے جہازوں کو خصوصی اجازت دی جائے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر ان جہازوں کے لیے ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا پہلے ہی اس خطے میں موجود ہیں۔
ایرانی حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ پروٹوکول کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی ان جہازوں کی فہرست بھی ہم آہنگی کے لیے متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے گی۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کن اشیاء کو “ضروری” قرار دے گا اور آیا وہ ان ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رکھے گا جنہیں وہ مخالف سمجھتا ہے۔
