Baaghi TV

امریکا ایران مذاکرات کی امید، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے

‎امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
‎تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں ایک دن کی عارضی تیزی کے بعد آج دوبارہ مندی کا رجحان غالب رہا۔ عالمی سطح پر سپلائی اور طلب کی صورتحال میں بہتری کی توقعات نے قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
‎لندن برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر 86 سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی 2.28 فیصد کمی ہوئی اور یہ 96 ڈالر 85 سینٹ فی بیرل پر آ گیا۔
‎یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
‎معاشی ماہرین کے مطابق اب مذاکرات کے نئے دور کی امیدوں نے عالمی منڈی میں اعتماد بحال کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں اور قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی کو محدود مدت کے لیے روکنے کی پیشکش کی ہے جبکہ امریکا اس مدت کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں، تاہم براہ راست بات چیت کے تسلسل نے ایک ممکنہ معاہدے کی امید پیدا کر دی ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

More posts